نئے بادشاہ داؤد کو مقرر کیا جاتا ہے
1 ایک دن رب سموایل سے ہم کلام ہوا، "تُو کب تک ساؤل کا ماتم کرے گا؟ مَیں نے تو اُسے رد کر کے بادشاہ کا عُہدہ اُس سے لے لیا ہے۔ اب مینڈھے کا سینگ زیتون کے تیل سے بھر کر بیت لحم چلا جا۔ وہاں ایک آدمی سے مل جس کا نام یسّی ہے۔ کیونکہ مَیں نے اُس کے بیٹوں میں سے ایک کو چن لیا ہے کہ وہ نیا بادشاہ بن جائے۔"
11 آخرکار سموایل نے پوچھا، "اِن کے علاوہ کوئی اَور بیٹا تو نہیں ہے؟" یسّی نے جواب دیا، "سب سے چھوٹا بیٹا ابھی باقی رہ گیا ہے، لیکن وہ باہر کھیتوں میں بھیڑبکریوں کی نگرانی کر رہا ہے۔" سموایل نے کہا، "اُسے فوراً بُلا لیں۔ اُس کے آنے تک ہم کھانے کے لئے نہیں بیٹھیں گے۔"
12 چنانچہ یسّی چھوٹے کو بُلا کر اندر لے آیا۔ یہ بیٹا گورا تھا۔ اُس کی آنکھیں خوب صورت اور شکل و صورت قابلِ تعریف تھی۔ رب نے سموایل کو بتایا، "یہی ہے۔ اُٹھ کر اِسے مسح کر۔" 13 سموایل نے تیل سے بھرا ہوا مینڈھے کا سینگ لے کر اُسے داؤد کے سر پر اُنڈیل دیا۔ سب بھائی موجود تھے۔ اُسی وقت رب کا روح داؤد پر نازل ہوا اور اُس کی ساری عمر اُس پر ٹھہرا رہا۔ پھر سموایل رامہ واپس چلا گیا۔