نعومیؔ کے شوہر اَور بیٹوں کی موت
1 جِن دِنوں (بنی اِسرائیل کی) قیادت قُضاتیوں کے ہاتھوں میں تھی اُن دِنوں مُلک میں قحط پڑا اَور یہُودیؔہ کے بیت لحمؔ کا ایک شخص اَپنی بیوی اَور دو بیٹوں سمیت چند دِنوں کے لیٔے مُوآب کے مُلک میں جا کر مُقیم ہو گیا۔
16 لیکن رُوتؔ نے کہا: "تُم اِصرار نہ کر کہ مَیں تُجھے چھوڑ دُوں یا تُجھ سے بھاگ کر دُور چلی جاؤں۔ جہاں تُم جاؤگی میں بھی وہاں چلُوں گی اَور جہاں تُم رہوگی میں بھی وہیں رہُوں گی۔ تمہارے لوگ میرے لوگ ہوں گے اَور تمہارا خُدا میرا خُدا ہوگا۔ 17 جہاں تُم مَروگی میں بھی وہیں مروں گی، اَور وہیں دفن ہو جاؤں گی۔ اگر موت کے سِوا کویٔی اَور چیز مُجھے تُجھ سے جُدا کرے تو یَاہوِہ مُجھ سے اَیسا ہی بَلکہ اِس سے بھی زِیادہ سختی سے پیش آئے۔"
20 اُس نے نعومیؔ سے کہا: "مُجھے نعومیؔ1:20 نعومیؔ یعنی خوشگوار نہ کہو، بَلکہ مارہؔ1:20 مارہؔ یعنی تلخ کہو کیونکہ قادرمُطلق نے میری زندگی تلخ کر دی ہے۔ 21 میں تو بھری پُوری گئی تھی لیکن یَاہوِہ مُجھے خالی واپس لے آئے، مُجھے نعومیؔ کیوں کہتی ہو؟ یَاہوِہ قادرمُطلق نے مُجھ پر آفت نازل کی اَور یَاہوِہ نے مُجھے بدنصیب کر دیا۔"