آسفؔ کا مشکیل۔
1 اَے میری اُمّت! میری تعلیم سُنو؛
میرے مُنہ کے کلام پر کان لگاؤ۔
2 میں تمثیلوں کے لیٔے اَپنا مُنہ کھولوں گا،
میں قدیم زمانہ کی پوشیدہ باتیں بتاؤں گا۔
3 جنہیں ہم نے سُنا اَور جان لیا،
اَور جنہیں ہمارے آباؤاَجداد نے ہمیں بتایا۔
4 ہم اُنہیں اُن کی اَولاد سے پوشیدہ نہ رکھیں گے؛
بَلکہ آنے والی نَسل کو
یَاہوِہ کے قابل تعریف کارناموں،
اُن کی قُدرت اَور اُن کے کئے ہُوئے عجِیب کارناموں
کے متعلّق سَب کچھ بتا دیں گے۔